قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ذات کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دی جاسکتی ہے، اس کی ایک بڑی اور خاص وجہ یہ ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ کا درجہ ملا ہوا ہے۔ بے شک یہ بات الگ ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دینے والا حکم تنازعات کے بعد سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔

عدالت نے بھی مرکزی حکومت اور اے ایم یو انتظامیہ کو سننے کے لئے اے ایم یو میں ابھی کی صورتحال کو برقرار رکھا ہے، اس لئے جب تک عدالت کا کوئی فیصلہ نہیں آجاتا ہے تب تک اے ایم یو میں کسی بھی طرح کے نئے احکامات کو نہ تو نافذ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی پرانے فیصلے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا ہے کہ اے ایم یو معاملوں کے جانکار اور اے ایم یو کے ہی سابق رابطہ عامہ افسر (پی آراو) ڈاکٹر راحت ابرار کا۔

واضح رہے کہ کچھ دن قبل یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ایک دن پہلے قومی درج فہرست ذات کمیشن کے چیئرمین اور آگرہ کے ممبرپارلیمنٹ رام شنکر کٹھیریا نے اے ایم یو میں دلت طلبا کو ریزرویشن دینے کی وکالت کی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت سے مالی مدد لینے والی اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دلت طلبا کو ریزرویشن نہیں دیتے ہیں۔

وہیں اے ایم یو کے پی آر او عمر سلیم پیرزادہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر کچھ نہیں بول سکتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ جو حکم دے گا، اس پر عمل کیا جائے گا۔

اے ایم یو میں اقلیتی درجے کا یہ ہے تنازعہ:

اے ایم یو میں اقلیتی درجے کے معاملہ میں 1967 میں سپریم کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے ایم یو کو مرکزی حکومت نے بنایا تھا، نہ کہ مسلمانوں نے۔ اس تبصرہ کی بنیاد پر اے ایم یو کو اقلیتی درجہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ وہیں اس وقت کی مرکزی حکومت نے 1967 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف 1981 میں پارلیمنٹ میں ترمیمی بل منظور کرتے ہوئے اے ایم یو کو اقلیتی کردارکادرجہ دے دیا تھا۔

وہیں دوسال پہلے 2016 میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے اے ایم یو کا اقلیتی درجہ ختم کرنے اور اے ایم یو کے متعلق مرکزی حکومت کے گزشتہ سبھی بل اور تجویز واپس لینے کی بات کہی ہے۔

سپریم کورٹ نے نہیں دیا ہے اقلیتی کردار : کٹھیریا

نیشنل شیڈول کاسٹ کمیشن کے چیئرمین اورآگرہ کے ممبرپارلیمنٹ رام شنکر کٹھیریا کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں کبھی نہرو سے لے کراندرا گاندھی تک کسی نے اے ایم یو کو اقلیتی کردار کا درجہ نہیں دیا ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے بھی 1986 میں دیئے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ یہاں جان بوجھ کر درج فہرست ذات کے طلبا کو ریزرویشن سے محروم کیا جارہا ہے۔ کٹھیریا نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کہتا ہے کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ ہے تو وہ اپنے مطالبات واپس لے لیں گے۔