قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

سپریم کورٹ نے ملک میں آئے دن ہورہی موب لنچنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ موب لنچنگ ایک جرم ہے۔ کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ہے اور اس طرح کے حادثات پر قابو پایا جانا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائے چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ یہ قانون وانتظام کی صورتحال کا معاملہ ہے اور اس کے لئے ریاستی حکومتیں ذمہ دارہیں۔ سماعت کےدوران عدالت نے پایا کہ گئورکشا کے نام پر بھیڑ تشدد پر آمادہ ہوچکی ہے، جو کہ ایک جرم ہے۔

ایڈیشنل سا لسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے کہا کہ مرکزی حکومت کو حالات کی جانکاری ہے اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون وانتظام کو بنائے رکھنا اہم مسئلہ ہے۔

کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ موب لنچنگ کے لئے الگ سے قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکز نے کہا کہ لوگوں کا تحفظ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ مرکز نے کہا کہ ریاستوں کے قانون وا نتظام کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو احکامات دیئے کہ اس طرح کے حادثات سے نمٹنے کے لئے وہ ریاستی حکومتوں کو احکامات جاری کریں۔

مہاراشٹر کے دھلے میں بچہ چوری کے شک میں پانچ لوگوں کا قتل:

واضح رہے کہ دو دن پہلے ہی مہاراشٹر کے دھلے ضلع میں بھیڑ نے بچہ چور ہونے کےشک میں پانچ لوگوں کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا تھا۔ وہیں پیر کو مالیگاوں میں اسی طرح کی افواہ پر بھروسہ کرکے چار لوگوں کو پیٹ پیٹ کر بری طرح زخمی کردیا گیا۔

گزشتہ کچھ دنوں میں واٹس اپ میسیج کی افواہوں کے سبب ملک کے کئی حصوں میں لوگوں کو مارڈالنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ جھارکھنڈ، تریپورہ، اترپردیش میں بھی افواہوں کے سبب بھیڑ نے کئی لوگوں کی جان لے لی۔ فرضی واٹس اپ میسیج کے سبب ایک سال میں 29 لوگوں کا قتل ہوچکا ہے۔ محض شک کی بنیاد پر بھیڑ نے 29 لوگوں کو مار دیا۔