قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن جماعتوں کے مہاگٹھ بندھن کو ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ خود اپنے وجود کو بچانے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شامل ہر لیڈر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

مسٹر مودی نے’سوراجیہ‘ میگزین کو دئے گئے ایک انٹرویو میں مہاگٹھ بندھن کو وزیر اعظم کی کرسی حاصل کرنے کے لئے مہادوڑ بتایا اور کہاکہ اس میں ہر پارٹی کا لیڈر وزیر اعظم بننا چاہتا ہے لیکن اتحاد کا دوسرا معاون اسے پیچھے سے دھکا دے کر خود دوڑ جیتنے کا خواہش مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننے کے لئے تیار ہیں لیکن ترنمول کانگریس اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی خود وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں لیکن اس میں بائیں بازو کی جماعتوں کو پریشانی ہے۔ سماج وادی پارٹی سمجھتی ہے کہ ان کا لیڈر وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے سب سے موزوں ہے ۔ مہاگٹھ بندھن میں عوام کی خوشحالی پر کسی کی توجہ نہیں ہے سب کا زور اقتدار پر قبضہ کرنے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک 1977اور 1989میں مہاگٹھ بندھن بننے کی بات ہے تب حالات مختلف تھے۔ سال 1977کا مہاگٹھ بندھن ایمرجنسی کی وجہ سے خطرے میں پڑجانے والی جمہوریت کو بچانے کے لئے تھا جب کہ 1989 کا مہاگٹھ بندھن ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے بوفورس گھپلے کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس مرتبہ کے مہاگٹھ بندھن کا ایجنڈا قوم کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اپنے وجود کو بچانا ، اقتدار پر قبضہ کرنا اور مودی کو ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ان کو ہٹانے کے علاوہ اور کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ ملک کے عوام کو یہ جاننا چاہچے کہ اتحاد کے سلسلے میں کانگریس کی کیا سوچ ہے۔ اس پارٹی نے 1998 میں پنچ مڑھی کیمپ میں اس وقت کانگریس صدر نے اتحاد کو سابقہ دور کی سیاست بتاکر ایکلا چلو کی پالیسی پر کام کرنے اور ایک پارٹی کے اقتدار کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جب کہ کانگریس آج اپنے ساتھیوں کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہے۔

مسٹر مودی نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج ایک علاقائی پارٹی بن کر رہ گئی ہے اور اپنے وجود کو بچانے کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ کانگریس صرف پنجاب، میزورم اور پڈوچیری میں اقتدار میں ہے۔ دہلی، آندھرا پردیش اور سکم اسمبلی میں اس کا ایک بھی رکن نہیں ہے۔ اترپردیش اور بہار میں اس کی کیا حالت ہے یہ سب کو معلوم ہے ۔ اس کی یہ حالت ملک کے عوام نے کی ہے جس نے اس کی من مانی کو مسترد کردیا ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ کسی اتحاد کو متحد رکھنے کے لئے ایک مضبوط پارتی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ پارٹی کون ہے۔ کانگریس تو آج ایک علاقائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگریس اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ وشواس گھات کرتی رہی ہے خواہ وہ چودھری چرن سنگھ رہے ہوں یا ایچ ڈی دیوے گوڑا ، چندر شیکھر ہوں یا وی پی سنگھ ۔اپنے مفادات کے لئے کانگریس کسی کو بھی قربان کرسکتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی ترقی اور بہتر نظم حکومت کے موضوع پر الیکشن لڑتی ہے۔ ہماری حکومت نے اقتصادی، سلامتی، سوشل سیکورٹی، خارجہ پالیسی جیسے تمام محاذوں پر بہت اچھا کام کیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 2014 کے بعد عوام نے ملک کے مختلف حصوں میں بی جے پی کو اقتدار سونپا ہے اور جس طرح سے ایک کے بعد ایک ریاست میں بی جے پی کی حکومتیں بنتی گئی ہیں وہ تاریخی ہے۔ یہ سب دیکھ کر انہیں یقین ہے کہ ملک کے عوام ایک بار پھر ان پر اعتماد کریں گے اور بی جے پی کو اقتدار سونپیں گے۔

حکمراں این ڈی اے کی حلیف جماعتوں میں عدم اطمینا ن کی بات کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ این ڈی اے بیس جماعتوں کا ایک خوشحال اور بڑا کنبہ ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس دوسرے اتحاد کے ساتھ اتنی پارٹیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں یہ سوال اٹھایا جارہا تھا کہ مودی کے ساتھ اتحاد میں کون پارٹی شامل ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت این ڈی اے کے ساتھ بیس جماعتیں شامل تھیں۔

مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں بی جے پی اکیلے حکومت بناسکتی تھی لیکن اکیلے چلنے کے بجائے پارٹی نے این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کے ساتھ حکومت بنائی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے ہمارے لئے مجبوری نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی علامت ہے ۔

ہندوستان جیسے عظیم ملک میں علاقائی امنگوں کا احترام کیا جانا ضروری ہے اور این ڈی اے ان امنگوں کو پورا کرنے کے لئے عہد بند ہے۔