قومی خبریں

title_image


Share on Facebook



حیدرآباد: نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ہمیں زراعت کو قابل عمل اور منافع بخش بنانے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔زراعت کی آمدنی غیر زرعی پیشوں اور فوڈ پروسیسنگ کے ذریعہ اضافی قدر ہونی چاہئے۔وہ حیدرآباد میں ادارہ کریڈا میں سائنس دانوں،زرعی ماہرین اور کسانوں سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر تلنگانہ کے نائب وزیراعلی محمد محمود علی اور دیگر اہم شخصیتیں موجود تھیں۔یہ محسوس کرتے ہوئے کہ زراعت،ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب تک کہ تمام شعبے مسلسل بہتر کام نہیں کریں گے،ملک کی پیشرفت آسان نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ زراعت میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ موسم اور مارکٹس کے حالات میں تبدیلی ہوئی ہے۔دنیا میں اور غذائی عادات میں تبدیلی آرہی ہے۔ملحقہ خدمات جیسے سمکیات ،پولٹری،باغبانی ،فوڈ پروسیسنگ اور پیکیجنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں بہتری پیدا ہوسکے۔

نائب صد رجمہوریہ نے کہا کہ ترقی کی شرح میں مسلسل اضافہ کے ذریعہ زراعت کو منافع بخش اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ زراعت کے تمام فریقین کو کسانوں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے بصورت دیگر ہم ہمارے اخلافی فرض میں ناکام ہوجائیں گے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ شدت کی بارش ، طویل خشک سالی جیسی موسمی غیر یقینی نے بتدریج زراعت پر اثر ڈالا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ژالہ باری،گرمی کی لہر اور سال بھر خشک سالی ،زراعت کے لئے مایوسی کا سبب ہے۔ا س غیر یقینی کے سبب کسان قرض کے جال میں پھنس رہے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ خودکشی کر رہے ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ زراعت کے بحران کومنظم انداز میں اس طرح دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کسان خوشحال بن سکیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے تحفظ کے روایتی اور عصری طریقہ کار پر کسانوں میں بیداری پیداکرنے سے زرعی سرگرمیوں کے لئے موثر پانی کی بچت ہوسکے گی۔مویشیوں کی صحت کی دیکھ بھال ،کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کے لئے ضروری ہے۔

قومی غذائی سلامتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی ملک جو اس کی غذائی سلامتی کے لئے دوسروں پر منحصر ہو،کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ہمیں اس موقع پر یہ عہد کرنا چاہئے کہ کسانوں کے ذریعہ معاش کو برقراررکھیں گے تاکہ وہ وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔