قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی: دہلی کے براڑی علاقہ میں ایک ہی خاندان کے11افرا کی پر اسرار موت کے راز سے ابھی تک پردہ نہیں اٹھ سکا ہے۔ پسٹ مارٹم رپورٹ بھی آگئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسی کوئی علامت نہیں ملی جس سے یہ لگتا ہوکہ مرنے والوں نے مزاحمت کی تھی۔ پولس نے تحقیقات کا کوئی زاویہ نظر انداز نہیں کیا اس کے باوجود اجتماعی موت کی گتھی نہیں سلجھ سکی ہے۔

لیکن پولس کو شبہ ہے کہ ان لوگوں کو کسی نے خود کشی پر اکسایا ہے۔اس کا علم ہونے کے بعد کہ یہ خاندان بہت مذہبی تھا اور روزانہ شام کو بڑی پابندی سے پوجا کرتا تھا ، پابندی سے مون برت رکھتا تھا۔نیز ہر معاملہ میں پجاریوں سے رجوع کرتا تھا پولس نے تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک تانترک سے پوچھ گچھ کیہے۔

کیونکہ عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ یہ خاندان کوئی پراسرار قوت کے حصول اور مافوق الفطرت بننے کے لیے کوئی مخصوص روحانی عمل او ر جاپ کر رہا تھا۔ اس گھر کا سب سے بڑا بیٹا بھوپی گھر پر جب بھی کوئی مذہبی پروگرام کراتا تھا تو اس کو ایسا ہال آتا تھا کہ اس کی کیفیت ڈراؤنی ہوجایا کرتی تھی اور اس کے منھ سے ایسے عجیب و غریب جملے نکلتے تھے جو ناقابل فہم ہوا کرتے تھے ۔

یہ کنبہ اپنی خوش اخلاقی اور کٹر مذہبی ہونے کے باعث علاقہ میں کافی پسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا۔علاقہ کے ہی جتن نام کے ایک بچے نے کہا کہ ہلاک شدگان میں جو دو چھوٹے بچے ہیں انہیں اس نے ہفتہ کی رات ہی کرکٹ کھیلتے دیکھا تھا اور بھونیش انکل انہیں کھیلتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔لیکن یہ سن کر یقین نہیں آتا کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔

ہلاک ہونے والے دونوںبچے وریندر پبلک اسکول کے 9ویں جماعت کے طالبعلم تھے۔اس خاندان کے ایک پڑوسی دیویش ملک نے کہا کہ ان کے بچے جو کچھ ہوا ہے اسے سن اور دیکھ کر بدحواس سے ہیں۔اور بہت ڈرے سہمے ہیں ۔کنبہ کی ایک خاتون رشتہ دار کا کہنا ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس می کسی سازش کی بو آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب محض15روز پہلے ایک بیٹی کی منگنی دھوم دھام سے کرنے والا یہ کنبہ اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتا ہے۔ اور جب رات میں خاندان کے دونوں کمسن بچے واردات سے عین چند گھنٹے پہلے بے فکری سے کرکٹ کھیل رہے تھے تو کیس یقین کیا جاسکتا ہے کہ انہیں معلوم رہا ہوگا کہ چند گھنٹے بعد انہیں خود کو موت کے حوالے کر دینا ہے۔

لیکن 11نفری خاندان، گھر سے جھانکتے 11پائپ اور 11ہی لوہے کی چھڑوں کی موجودگی نے معاملہ ایسا پیچیدہ کر دیا ہے کہ شک جادو ٹونے اور کچھ اور ہی قسم کے شیطانی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے.