قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی:گزشتہ 14 دنوں سے جاری تنوی سیٹھ اور ان کے شوہر محمد انس صدیقی کو پاسپورٹ تنازع کو اب کلین چٹ مل گئی ہے۔ بتادیں کہ یہ تنازع منگل کو ختم ہو گیا ہے ۔علاقائی پاسپورٹ آفس نے صاف کر دیا کہ تنوی سیٹھ اور انس کے پتے کی تصدیق نہ ہونے پر بھی ان کے پاسپورٹ رد نہیں ہوں گے۔ ریجنل پاسپورٹ افسر پیوش ورما کے مطابق پولیس کے ذریعہ تنوی و انس کے ایڈریس کی تصدیق نہ ہونا کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ان کو اب نہ تو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جائے گا اور نہ ہی پاسپورٹ کینسل کئے جائیں گے۔وزارت خارجہ کی نئی سہولت کے تحت پاسپورٹ بنانے کیلئے صرف دو چیزوں کی تصدیق ہونا ضروری ہے۔پہلی چیز درخواست دہندگان کی شہریت اور دوسری چیز اس پر کوئی مجرمانہ کیس نہ ہو۔

پولیس رپورٹ کی بنیاد پر تنوی اور انس ہندستانی شہری ہیں اور دونوں پر مجرمانہ کیس درج نہیں ہے۔ دونوں لکھنؤ اور نوئیڈا میں رہ چکے ہیں ایسے میں پولیس نے دونوں پتے کے خلاف رپورٹ فائل کی ہے اس کی بنیاد پر پاسپورٹ رد نہیں کئے جا سکتے ۔

پیوش ورما نے بتایا کہ تنوی اور انس کو پاسپورٹ جاری کرنے کے حکم کوپاسپورٹ دفتر نے صحیح مانا ہے ۔ اس کیلئے ان کے آدھار کارڈ او ر بینک پاس بک کو ثبوت مانا گیا۔نئی سہولت کے تحت درخواست دہندگان آدھار کارڈ کو دستاویز کے طور پر اٹیچ کر کے پاسپورٹ حاصل کر سکتا ہے۔

ایک نظر میں پاسپورٹ تنازع:

۔19 جون:تنوی نے وزیر خارجہ سشماسوراج کو ٹوئیٹ کر کے معاملے کی جانکاری دی۔

۔21 جون:تنوی اور انس کو پاسپورٹ سونپیے۔

۔26 جون:پولیس کی پاسپورٹ رپورٹ ۔

۔3 جولائی:تنوی اور انس کے پاسپورٹ تنازع کی فائل بند۔