گوشہٗ اطفال

title_image


Share on Facebook



امامہ ساکریہ



ترکی کے ایک گاؤں میں دو بے حد غریب موچی رہتے تھے۔ وہ دونوں گزر بسر کے لیے بہت محنت سے کام لیتے تھے۔ ان کے پاس تھوڑی سی زمین بھی تھی۔ جس کی پیداوار ان کے لیے ناکافی ہو جاتی۔ اتفاق سے ایک نیا موچی گاؤں میں آ گیا۔ گاؤں کے سب لوگ اس سے جوتے مرمت کروانے لگے۔ اس سال سردی اور بارش کی وجہ سے جو کی فصل خراب ہو گئی دونوں بھائیوں کو گزارا کرنا مشکل ہو گیا۔

ان کی جھونپڑی گاؤں کے باہر واقع تھی۔ اس سے آگے جنگل تھا۔ سخت برف باری سے جنگل کے درختوں پر برف جم گئی تھی ان کی جھونپڑی کے باہر ایک درخت گرا پڑا تھا۔

شاکر نے کہا بھائی ہم اس درخت کو کاٹ کر آگ جلائیں گے۔ پھر درخت کے کھوکھلے تنے میں سے کوئل کے کوکنے کی آوازیں سنائی دیں۔

اس کے ساتھ ہی کوئل ایک سوراخ سے باہر نکلی اور ان کے سامنے رکھی ہوئی میز پر جا کر بیٹھ گئی۔ دونوں بھائی اس پرندے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ لیکن انہیں اس وقت اور زیادہ حیرانی ہوئی جب کوئل نے انسانی آواز میں کہا یہ کون سا موسم ہے ؟

شاکر نے کہا یہ سردی کا موسم ہے اور بارہ برف باری ہو رہی ہے۔

کوئل بولی اوہو آگ کی گرمی سے میں سمجھی موسم گرما آ گیا ہے۔ تم نے تو میرا گھونسلا خراب اور برباد کر دیا ہے۔ اس لیے گرمیوں کے آنے تک مجھے تم اپنے ساتھ رہنے دو۔ میرے لیے ایک سوراخ ہی کافی ہے۔ جب گرمیوں کا موسم آئے گا تو میں اپنے سفر پر روانہ ہو جاؤں گی۔ واپسی پر میں تمہارے لیے کوئی تحفہ لاؤں گی۔ جس سے تمہاری مصیبت کم ہو جائے گی۔

شاکر تم بہت شوق سے ہمارے ساتھ رہ سکتی ہو۔ میں تمہارے لیے ایک گھونسلا بنا دیتا ہوں۔ تم گرمیوں کے آنے تک اس میں آرام کرو۔ تمہیں بھوک لگ رہی ہو گی۔ اس لیے میں تمہیں اپنے حصے کی آدھی روٹی دے رہا ہوں۔ کوئل نے روٹی کھائی اور جگ سے پانی پیا۔ پھر وہ شاکر کے بنائے ہوئے گھونسلے میں بند ہو گئی۔

ایک دن صبح سویرے کوئل کی کوکو سے وہ بیدار ہو گئے۔ ان کے سامنے والی کھڑکی میں کوئل بیٹھی تھی۔ اور کوک کوک کر بہار کی آمد کا اعلان کر رہی تھی۔ اس نے کہا کہ میں اب دنیا کے سفر پر جا رہی ہوں تاکہ ہر جگہ بہار کی آمد کا پیغام دوں اب مجھے تم بتاؤ کہ واپس آتے وقت میں تمہارے لیے کیا تحفہ لاؤں ؟

لالچ سے فضلو کی آنکھیں چمکنے لگیں وہ بولا تم نے دنیا کا کونا کونا دیکھا ہوا ہے۔ تم میرے لیے کوئی بڑا سا ہیرا یا موتی لے آؤ تاکہ ہماری مصیبتوں کا دور ختم ہو جائے۔

کوئل بولی! مجھے ہیرے جواہرات کا علم تو نہیں ہے یہ چٹانوں کے اندر چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ موتی دریاؤں ک تہہ میں ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا نکالنا میرے بس میں نہیں ہے۔ یہاں سے بہت دور ایک کنواں ہے جس کے کنارے پر دو درخت اگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک سنہری درخت کہلاتا ہے۔ اس کے پتے سونے کے بنے ہوئے ہیں۔ دوسرا درخت زیتون کا ہے یہ ہمیشہ ہرا بھر ا رہتا ہے۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ جو کوئی ا پتوں کو اپنے پاس رکھے گااس کا دل مطمئن رہے گا۔ اگر وہ کسی جھونپڑی میں رہتا ہے تو اپنے آپ کو محل میں رہنے والوں سے زیادہ خوش و خرم سمجھے گا۔ شاکر بولا پیاری کوئل تم میرے لے زیتون کا پتہ لے کر آنا۔

کوئل نے انہیں اللہ حافظ کہا اور کھلی ہوئی کھڑکی میں سے اڑ کر باہر نکل گئی وہ میدانوں اور چراگاہوں پر سے اڑتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔

اس سال دونوں بھائیوں نے بہت تنگی ترشی میں وقت گزارا۔ لوگوں نے ان سے جوتے مرمت کروانے بند کر دیے۔ ان کی کھیتی سے باجرے کی فصل بھی کم ہوئی۔ سال ختم ہوتے ہوتے ان کی حالت بہت خراب ہو گئی اور فاقہ کشی تک نوبت جا پہنچی۔

بہار کا موسم شروع ہوا تو کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی اور پھر کوئل کی آواز سنائی دی۔

کوکو میرے دوستو دروازہ کھولو۔ میں تمہارے لیے تحفہ لائی ہوں۔

شاکر نے جلدی جلدی سے دروازہ کھولا۔ کوئل جھونپڑی میں داخل ہوئی۔ اس کی چونچ میں جو دو پتے تھے۔ ایک بہت بڑا سا سونے کا پتا اور دوسرا زیتون کا پتا کوئل نے سونے کا پتہ فضلو کو دیا اور بولی دنیا کے آخری سرے سے تمہارے لیے یہ پتے لے کر آئی ہوں۔ تم مجھے کھانے کو کچھ دو۔ مجھے ابھی شمالی ملکوں میں جانا ہے تاکہ میں وہاں بھی بہار آنے کی خوش خبری سنا دوں۔

شاکر نے اپنے حصے کی روٹی کوئل کے آگے ڈال دی۔ کوئل روٹی کھانے لگی۔ فضلو سونے کا پتا دیکھ کر شاکر سے بولا تم نے میری عقل مندی دیکھی ا ب تم بھی اپنے لیے ایسا ہی پتہ منگوانا۔ کوئل شاکر سے بولی اگر تم بھی اپنے لیے سونے کا پتہ منگوانا چاہو تو مجھے بتا دو۔ اگلے سال میں تمہارے لیے ایسا ہ پتا لا کر دے دوں گی۔ شاکر نے جواب دیا کہ تم میرے لیے زیتون کا پتا ہی لانا۔ فضلو بولا تم میرے لیے سونے کا پتا لانا۔

یہ سن کر کوئل دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئی۔

فضلو دانت پیس کر بولا۔ تم نے دولت مند ہونے کا سنہری موقع کھو دیا ہے۔ زیتون کے پتوں سے کیا فائدہ پہنچے گا؟ آخر تم رہے بدھو کے بدھو۔ فضلو اسے جلی کٹی سناتا رہا۔ لیکن جواب میں شاکر ہنس کر کہتا کہ بھئی قناعت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ یہ مال و دولت سب آنی جانی چیزیں ہیں فضلو بہت زیادہ غصے ہو کر بولا۔ تم مجھ جیسے شریف آدمی اور معزز شخص کے ساتھ رہنے ے قابل نہیں ہو۔ آج سے میرے اور تمہارے راستے جدا جدا ہیں۔

یہ کہہ کر اس نے سنہری پتا اٹھایا اور جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔ گاؤں میں جس جس نے شاکر کی بے وقوفی سنی وہ ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔ سب لوگوں نے فضلو کی عقل مندی کی داد دی۔ ا ب وہ فضلو نہیں رہا تھا۔ بلکہ فضل خان کہلانے لگا تھا۔ سچ ہے مایا تیرے تین نام پرسا پرسوں پرس رام۔ اب گاؤں کے لوگ عزت و احترام سے اس کا نام لینے لگے تھے۔ معزز اور مال دار لوگ اپنے جوتے مرمت کروانے کے لیے اس کے پاس بھیجتے تھے۔ کچھ ہی دنوں میں فضل خاں نے شادی بھی کر لی۔ شادی کی دعوت میں گاؤں کے سب لوگ تھے صرف شاکر نہیں تھا۔ کیونکہ فضل خان کے مطابق وہ غریب اور بیوقوف تھا اور خاندان کے نام پر دھبہ تھا۔ اب فضل خان امیرانہ شان و شوکت سے زندگی بسر کر رہا تھا۔ لیکن کوئی بات تھی کہ وہاس کی بیوی ناخوش اور پریشان ہی رہے۔

اخراجات پورے کرنے کے لیے فضل خان سونے کے پتے کو توڑ تو ڑ کر فروخت کرتا رہا۔ آخر ایک دن پتے کا آخری ٹکڑا بھی بک گیا۔ اب فضل خان پہلے کی طرح مفلس ہو چکا تھا ابھی کوئل کے آنے میں بہت دن باقی تھے۔

جب موسم بہار شروع ہوئی تو کوئل پھر آئی۔ فضل خان اور اس کی بیوی نے اس کی بہت خاطر مدارت کی۔ وہ اس کے لیے مٹھائی پھل شربت لے کر آئے۔ لیکن کوئل نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور بولی میں غریب شاکر کے گھر روکھی سوکھی روٹی کھانا زیادہ پسند کرتی ہوں۔

اس طرح نہ جانے کتنے ہی سال گزر گئے۔ فضل خان سونے کے پتے لیتا رہا اور شاکر زیتون کے پتوں پر شکریہ ادا کرتا رہا۔ ایک دن اس ملک کا بادشاہ شکار کھیلتا ہوا ادھر آ نکلا۔ وہ بہت فکر مند اور پریشان رہتا تھا۔ اس کا بیٹا شہزادہ نور الدین نافرمان تھا۔ وزیر ساز باز میں لگے ہوئے تھے۔ ان باتوں نے بادشاہ کا دل کا چین و سکون غارت کر دیا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر شاکر پر پڑی وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے سے لگتا تھا کہ وہ کئی وقت کا بھوکا ہے لیکن پھر بھی وہ بے حد مطمئن اور خوش نظر آتا تھا۔ بادشاہ کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی شاکر نے بتایا عالی جاہ! قناعت سب سے بڑی نعمت ہے۔ جسے قناعت کی دولت میسر ہو اسے نہ تو کوئی پریشانی ہے اور نہ کوئی غم ہے۔ بادشاہ کو شاکر کی یہ بات پسند آئی۔ وہ بہت دنوں سے شاکر کے پاس رہا۔ اس وقت اس کے ذہن سے ساری پریشانی جاتی رہی۔ شاکر کے پاس بادشاہ کے آنے اور اس کی پریشانی دور ہونے کی بات ہر جگہ پھیل گئی لوگ اس ک پاس اپنی پریشانیاں لے کر آنے لگے اور شاکر ان کی فکر اور پریشانی کا حل بتایا وہ خوش خوش اپنے گھروں کو لوٹتے۔ امیر لوگ اسے انعام دیتے اور غریب لوگ ڈھیروں دعائیں دیتے۔ اب شاکر بھی اچھی اور خوش حال زندگی گزارنے لگا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے شاکر کو بلانے کے لیے اپنا خادم بھیجا۔ خادم نے بادشاہ کا حکم نامہ دکھا کر کہا!

جناب عالی سلطان معظم نے تمہیں فوراً دربار میں طلب کیا ہے۔

شاکر نے کہا کل موسم بہار کا پہلا دن ہے میں سورج نکلنے سے پہلے کہیں نہیں جا سکتا۔

خادم شاکر کی جھوپڑی کے باہر ٹھہرا رہا۔ دن نکلتے ہی کوئل آئی اور اس نے زیتون کا پتا شاکر کو دیا۔ شاکر نے کہا پیاری کوئل! بادشاہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا ہے۔ کیا تم مجھ سے ملنے کے لیے محل میں آیا کرو گی؟ کوئل بولی اونچے اونچے محل میں قید خانے ہوتے ہیں یہاں نفرت عداوت اور حسد آپس کے جھگڑے ہیں ایسی جگہ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں تم سے ملے کے لیے وہاں نہ آ سکوں گی۔ تم زیتون کے پتوں کی حفاظت کرنا اور ان سے کبھی جدا نہ ہونا۔

کوئل نے روٹی کا ٹکرا کھایا اور بولی۔ اب تم مجھے رخصت دو اللہ حافظ شاکر کو کوئل کی جدائی پر بڑا رنج ہوا۔ اسنے زیتون کے پتے چمڑے کی کرتی کے اندر سی لیے۔ پھر وہ یہ کرتی پہن کر بادشاہ کے خادم کے ساتھ دربار میں حاضر ہوا۔ جب بادشاہ کے وزیروں نے موچی سے گفتگو کی تو اس کے جوہر کھلنے لگے شہزادے وزیر امیر اور درباری جس جس نے بھی شاکر سے گفتگو کی اس کے دل کا بوجھ کم ہو گیا۔ دربا رمیں ایسی تبدیلی آئی جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ لوگ آپس کی رنجش بھول گئے۔ ان کے دلوں سے حسد رقابت اور نفرت کے جذبات دور ہو گئے۔

بادشاہ نے شاکر کے لیے ایک کمرا مخصوص کر دیا۔ بادشاہ کے تحت کے برابر کرسی رکھ دی گئی۔ درباریوں نے اس کی خدمت میں بہت سے تحفے پیش کیے۔ لیکن موچی نے اپنے چمڑے کی کرتی پہننی نہ چھوڑی۔ محل کے سب لوگوں نے اس بات کو سخت ناپسند کیا۔

بادشاہ نے کہا! تم یہ کرتی کسی فقیر کو کیوں نہیں دے دیتے ؟

شاکر نے کہا عالی جاہ! محل میں داخل ہونے سے پہلے یہی میرا لباس تھا۔ یہ لباس پہن کر میرے دل میں غرور تکبر اور بڑائی پیدا نہیں ہوتی۔

بادشاہ کو شاکر کا یہ جواب بہت پسند آیا۔ اس نے حکم دیا کہ آئندہ کوئی بھی شخص شاکر سے اس کی کرتی کے متعلق سوال نہیں کہے گا۔ اگلے سال کوئل پھر آئی۔ اس بار وہ فضل خان کے لیے سونے کے دو پتے لائی۔ اب شاکر کے لیے زیتون کا پتہ لانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ فضل خان نے ایک سونے کا پتا فضول خرچیوں میں ختم کر ڈالا اور اس کی بیوی نے کہا کہ آخر ہم کب تک تنگی ترشی سے زندگی بسر کر تے رہے ہیں۔

فضل خان نے اپنا سامان باندھا اور سونے کا پتا ای رومال میں باندھا اور پھر دونوں سفر پر روانہ ہو گئے وہ بہت دیر تک چلتے رہے۔ دوپہر کے وقت وہ ایک جنگل میں پہنچے۔ وہ بری طرح تھک چکے تھے۔

فضل خان کی بیوی بولی ! ارے تم تو عقل سے بالکل پیدل ہو۔ تم نے سفر کے لیے کسی سواری کا انتظام کیوں نہ کیا؟ آخر یہ سونا کس دن کام آئے گا؟

فضل خان نے رومال کھول کر سونے کا پتا دیکھا۔ ایک چالاک بڑھیا بہت دیرسے ا ن کا پیچھا کر رہی تھی وہ درخت کے پیچھے چھپی ہوئی تھی اس نے ا ن سب کی باتیں سن لی تھیں۔ اور سونے کے پتے کی جھلک دیکھ لی۔ وہ درخت کے پیچھے سے نکلی اور ان کے پاس پہنچی اور چاپلوسی سے بولی عالی قدر نواب صاحب اور محترمہ بانو صاحبہ کنیز کا سلام قبول فرمائیے۔

فضل خان کی بیوی نے پوچھا! تم نے کیسے جانا کہ ہم نواب ہیں بڑھیا بولی عالی قدر بانو! آپ کی شکل و صورت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ خاندانی نواب ہیں۔ سرکار! کیا آپ مجھے اپن میزبانی کی عزت بخشیں گے ؟

بڑھیا نے ایسی خوشامد کی کہ دونو ں اس کے جال میں آ گئے۔ وہ دونوں بھوکے پیاسے تو تھے ہی انہوں نے بڑھا کی دعوت قبول کر لی۔ بڑھیا نے اپنا تھیلا کھو لا اور بولی حضور آپ نے ہمیشہ مزے مزے کے کھانے کھائے آج اس غریب بڑھیا کے پکے ہوئے پھیکے اور سادہ کھانے بھی کھائیے۔ سرکار مکھن لگی ہوئی روٹی کباب کوفتے اور آم کا اچار حاضر ہے۔

فضل خان اور اس کی بیوی ے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ پھر بڑھیا نے انہیں گلاس کا شربت پیش کیا۔ ا س میں کوئی نشہ آور چیز ملی ہوئی تھی۔ اسے پیتے ہی ان کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ جلد ہی وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئے بڑھیا کے دو بیٹے ٹوٹو اور گو لی تھے۔ جب فضل خان اور اس کی بیوی سو گئے تو بڑھیا نے چیختی ہوئی آواز میں کہا اے مردارو! کہاں مر گئے ہو؟ وہ دونوں لپک کر بڑھیا ک پاس پہنچے۔ بڑھیا چیخ کر بولی نا مرادو! میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو جلدی سے مال سمیٹو اور بھاگ لو۔

پھر وہ ٹوٹو سے بولی ! آج تمہاری کیا کارگزاری رہی؟ تم نے چوری چکاری کی یا یوں ہی خالی ہاتھ چلے آئے ؟

ٹوٹو نے کہا اماں ! آج جب میں محل سرائے کے پاس سے گزر رہا تھا تو کسی نوکر نے یہ چمڑے کی کرتی اوپر سے پھینکی۔ یہ کرتی تو ہے بیکار ہی لیکن میں اسے آپ کے حکم کی تعمیل میں لیتا آیا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک گٹھڑی بڑھیا کی طرف پھنکی بڑھیا تیوری چڑھا کر بولی ارے کم بخت یہ گدڑی میرے کس کام کی ہے۔ یہ کہ کر بڑھیا نے وہ کرتی فضل خان پر ڈال دی بڑھیا نے جب سامان سمیٹا پھر وہ تینوں ہنستے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ بہت دیر بعد فضل خان اور اس کی بیوی کی آنکھ کھلی اور معلوم ہوا کہ ان کی چیزیں اور سونے کا پتا سب چوری ہو چکا ہے یہ دیکھ کر فضل کی بیوی چیخیں مار ما ر کر رونے لگے۔

شام کے وقت خاصی سردی ہو گئی۔ فضل خان نے چمڑے کی وہ کرتی پہن لی جو اس کے نزدیک ہی پڑی تھی۔ جیسے ہی اس کرتی کے بٹن لگائے اس کی دلی کیفیت میں عجیب تبدیلی واقع ہو گئی۔ وہ رونے دھونے کی بجائے مسکرانے لگا۔ اس کی بیوی کے دل سے بھی رنج و ملال جاتا رہا انہوں نے جنگل میں ایک گھر بنایا فضل خان ایک گھونسلے سے انڈے نکال لایا۔ اس کی بیوی نے انہیں بھونا اور پھر دونوں کھا کر گھاس کے ڈھیر پر لیٹ گئے اور سو گئے۔ وہ جنگل میں رہتے رہے۔ انہوں نے اپنی جھونپڑی کو کافی بڑا بنا لیا تھا۔ وہ پرندوں کے انڈے اور جنگل پھلوں پر گزارا کرنے لگے ان کے دل سے دربار جانے کا خیال جاتا رہا۔ ادھر شاکر کا حال سنیے۔ جب وہ صبح کے وقت جاگا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کرتی گم ہو چک ہے۔ ا س نے نوکروں سے دریافت کیا مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ محل کا کونا کونا چھان مارا لیکن کرتی نہ ملی۔ اس روز سے محل کے حالات اپنی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ لڑائی جھگڑے ہونے لگے۔ وزیر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگے۔ بادشاہ کی فکر اور پریشانی بڑھ گئی۔

شاکر کی سب صلاحیتیں اس کرتی کی وجہ سے تھیں۔ جب وہ نہ رہی تو صلاحیتیں بھی جاتی رہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ اس کا ذہن بالکل ناکارہ ہو چکا ہے درباریوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اس موچی کا یہاں پر کیا کا م بادشاہ نے تحقیقات کا حکم دیا کہ یہ موچی یہاں کیوں آیا اور اس درجے تک کس طرح پہنچا۔ تحقیقات کے نتیجے میں یہ با ت سامنے آئی کہ موچی خواہ مخواہ محل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ بادشاہ نے حکم دے دیا کہ موچی کو محل سے باہر نکال دیا جائے۔ اور اس کی ایک ایک چیز ضبط کر دی جائے۔ فرمان جاری ہوا اور ایک نوکر ضبطی کا حکم لے کر کمرے میں داخل ہوا اور قیمتی چیزوں پر قبضہ کرنے لگا۔ شاکر کھڑکی کی راہ سے بھاگ نکلا۔ اس کو بھاگتا دیکھ کر ایک راہ گیر بولا۔ کچھ دن پہلے اس کھڑکی سے ایک کرتی باہر گری اب کرتی کا مالک کھڑکی سے باہر کود رہا ہے۔

شاکر نے راہ گیر کا ہاتھ پکڑ لیا اور منت بھرے لہجے میں بولا کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کرتی کس کے پاس ہے ؟

راہ گیر بولا ایک شخص اس کرتی کو اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگ گیا ہے شاکر بولا اگر تم مجھے اس شخص کے پاس لے چلو تو میں تمہیں بہت انعام دوں گا۔

راہ گیر بولا تم اس راستے پر چلتے رہو۔ جہاں یہ ختم ہو جائے وہیں اس کا گھر ہے۔ شاکر نے اپنا بٹوہ اس کو انعام میں دیا اور راہ گیر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔ وہ جنگل میں داخل ہوا رات ہو گئی تھی۔ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجاھئی نہ دیتا تھا۔ دور کسی جگہ آگ جل رہی تھی اور اسی سمت میں وہ آگے بڑھتا رہا آخر وہ ایک مکان کے پاس پہنچا۔ مکان کا دروازہ آدھا کھلا تھا اس نے اندر جھانک کر دیکھا۔ وہاں اس کا بھائی فضل خان سو رہا تھا۔ اس کے سرہانے کرتی رکھی ہوئی تھی۔ ا س کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ شاکر سمجھ گیا کہ یہ فضلو کی بیوی ہے۔ وہ مکان میں داخل ہوا اور آہستہ سے سلام کیا۔ فضلو کی بیوی نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے بہت اخلاق سے اسے خوش آمدید کہا اور بولی ذرا آہستہ گفتگو کیجیے۔ میر ے شوہر ابھی سوئے ہیں شاکر نے کہا بی بی راستے سے بھٹک کر ادھر آ نکلا ہوں میں دراصل بادشاہ کے دربار میں ملازم ہوں۔

عورت نے پوچھا اچھا تو بتائیے کہ دربار کا کیا حال ہے ؟ بہت دن پہلے میں بھی وہاں جانے کے خواب دیکھتی تھی۔ لیکن اب میں اپنے اس احمقانہ خیال پر ہنستی ہوں۔

شاکر نے پوچھا آپ وہاں کیوں جانا چاہتی تھیں ؟

عورت نے کہا وہاں میرے شوہر کا بھائی دربار میں ملازم ہے ہم بھی اپنی قسمت آزمانے نکلے تھے۔ لیکن ایک بڑھیا نے ہمیں نشہ آور شربت پلا کر بے ہوش کر دیا اور ہمارا سب کچھ چھین کر لے گئی اور جاتے وقت وہ یہ پرانی سی کرتی یہاں پھینک گئی ہے۔

شاکر نے اپنا قیمتی کوٹ اتار کر رکھ دیا اور بولا بی بی میرا خیال ہے کہ تمہارا شوہر اس پرانی کرتی کی جگہ اس قیمتی کوٹ کو ضرور پسند کرے گا۔ فضل خان نے آنکھیں کھول کر دیکھا اس کے سامنے اس کا بھائی شاکر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ فضل نے آگے بڑھ کر بھائی کو گلے لگایا اور کہا!

بھائی ! تم ٹھیک تو ہو؟ تم نے دربار میں کیا کچھ دیکھا۔ وہاں کتنی ترقی پائی۔

شاکر بولا بھائی دربار کا عروج بھی دیکھا اور دربار کا زوال بھی سچ پوچھو تو ان ہنگاموں سے میرا د بھر چکا ہے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ اپنی جھونپڑی میں سکون سے رہوں۔

فضل خان اور اس کی بیوی بھی گاؤں جانے پر رضامند ہو گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک بار پھر اپنا پرانا کام سنبھال لیا۔ کوئل اب ہر سال موسم بہار میں ان سے ملنے کے لیے آتی اور دونوں کے لیے زیتون کے پتے لاتی۔

٭٭٭