دہلی

title_image


Share on Facebook

بیروہ : نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے باغی ممبران اسمبلی سے پوچھا جانا چاہیے کہ ’یہ ناراضگی اچانک کیوں؟‘۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی پی کے پاس اقتدار تھا تب اس جماعت کے کسی بھی ممبر اسمبلی کو اپنی پارٹی سے شکایت نہیں تھی۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ان ممبران اسمبلی کو حکومت جانے پر ہی اپنی ناراضگی کیوں یاد آئی‘۔

عمر عبداللہ نے یہ باتیں جمعرات کو یہاں اپنے حلقہ انتخاب کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی سے اتحاد ختم ہونے کے دن سے اب تک پی ڈی پی کے کم از کم تین ممبران اسمبلی باغیانہ رخ اختیار کرچکے ہیں۔ ان ممبران اسمبلی نے پی ڈی پی پر کنبہ پروری کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے باغی ممبران اسمبلی کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا ’جہاں تک پی ڈی پی کے ناراض ممبران کا تعلق ہے، وہ پی ڈی پی کا اندرونی مسئلہ ہے۔ لیکن ان سے یہ بھی پوچھنا پڑے گا کہ یہ ناراضگی اچانک کیوں؟ انہیں حکومت جانے پر اپنی ناراضگی کیوں یاد آئی؟ کچھ ماہ پہلے جب جموں میں اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا، اس میں تو میں نے کوئی شکایتیں نہیں سنیں۔

پی ڈی پی کے بیشتر ممبران محبوبہ مفتی اور اُن کی حکومت کی تعریفیں کررہے تھے۔ حکومت جانے کے بعد یہ ناراضگی کیسے پیدا ہوئی، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔