قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

پٹھان کوٹ ضلع اور سیشن عدالت نے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملے میں ملزم کی میڈیکل رپورٹ کو قبول کرلیا ہے، جس نے خود کو نابالغ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرجے کے چوپڑا نے کہا کہ رپورٹ میں اس کی عمر 20 سال سے زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بچاو فریق کے وکیل کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے ضلع اور سیشن جج تاجویندر سنگھ نے کہا کہ ملزم پرویش کمارعرف منّو کو بالغ تسلیم کیا جائے گا۔ چوپڑا نے کہا کہ عدالت نے اس کی درخواست کو مسترد کردیا ہے اورملزم کو بالغ قرار دیا۔

کمارکے وکیل اے کے ساہنی نےعدالت کے باہر بتایا کہ وہ نچلی عدالت کے فیصلے کوجلد ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے اس ہفتے کی شروعات میں میڈ یکل رپورٹ عدالت کو سونپ دی ہے۔

ضلع جج نے کرائم برانچ کو حکم جاری کیا تھا کہ کمارکی عمر کا پتہ لگانے کے لئے اس کی ہڈی سے متعلق جانچ کی جائے۔ اس جانچ میں اس کی عمر 20 سال سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ جموں وکشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں جنوری میں 8 سالہ معصوم بچی کی خانہ بدوش لڑکی سے عصمت دری اور قتل معاملے کے 8 ملزمین میں کمار بھی شامل ہے۔

ملزم کی عمر کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے پوچھے جانے پر چوپڑا نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کی عمر 20 سال سے زیادہ ہے۔ ایک دیگر ملزم کی عمر کے بارے میں بھی فیصلہ ہونا ہے، جو خود کو نابالغ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا معاملہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں زی غور ہے۔

واضح رہے کہ جموں وکشمیر کے گھمنتو بکروال طبقے کی 8 سالہ بچی کٹھوعہ کے ایک گاوں سے 10 جنوری کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ ایک ہفتہ بعد پاس کے جنگل میں بچی کی لاش ملی تھی۔ جموں وکشمیر کرائم برانچ کی جانچ میں سامنے آیا کہ بچی کا اغوا کرکے اسے نشیلی دوائیں کھلا کراس کے ساتھ ایک ہفتہ تک عصمت دری کی گئی اوربعد میں اس کا قتل کردیا گیا۔ اس معاملے میں ریاستی پولیس نے 7 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے جبکہ ایک نابالغ ملزم کے خلاف کٹھوعہ کی عدالت میں الگ سے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے 7 مئی کو فیصلہ دیا تھا کہ اس معاملے کی سماعت پٹھان کوٹ عدالت میں ہوگی۔