قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی:وزیراعظم نریندرمودی نے کانگریس اور پنڈت جواہر لال نہرو پر حملہ تیزکرتے ہوئے کہا کہ 1951میں پنڈت نہرو نے ڈاکٹرشیاما پرساد مکھرجی کو اکھنڈ بھارت کی پیروکاری سے روکنے کے لئے آئین میں ترمیم کی تھی اور یہ کانگریس کے جمہوریت مخالف رویہ کی ہی عکاسی کرتاہے ۔ مسٹرمودی نے اپنی کابینہ کے سینئر ساتھی ارون جیٹلی کے جن سنگھ کے بانی ڈاکٹرشیاما پرساد مکھرجی کے یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس اور پنڈت جواہرلال نہروکو کٹہرے میں کھڑاکرنے والے مضمون کو ری ٹوئیٹ کیا۔

وزیراعظم نے کہا،’’ارون جیٹلی جی نے بہت اچھا مضمون لکھا ہے جس میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی طاقتور اور اکھنڈ بھارت کے تئیں عہدبستگی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے جمہوریت مخالف رویہ کو واضح کیا گیا ہے ۔‘‘مسٹر جیٹلی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں آئین میں 1951میں کی گئی پہلی ترمیم اور 1963میں کی گئی 16ویں ترمیم کے بارے میں لکھا ہے جن میں اظہار رائے کی آزادی پر شرائط عائد کی گئی تھیں ۔

جیٹلی نے لکھا کہ پہلی ترمیم میں ریاست کو اظہار رائے کی اس آزادی کو محدود کرنے کا اختیار دیا گیا جس سے بیرونی ملکوں کے ساتھ ہندستان کے دوستانہ رشتوں پر منفی اثر پڑتاہے ۔ایسی صور ت میں ریاست کسی کے اظہاررائے کو قابل سزاجرم بنا سکتی ہے ۔