عالمی خبریں

title_image


Share on Facebook

تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ رائی کے غار میں گزشتہ دو ہفتے سے پھنسے ہوئے 12 بچوں اور ان کے کوچ کو نکالنے کے لئے ریسکیو ٹیم کے پاس تیز بارش آنے سے پہلے ’محدود وقت‘ بچا ہے۔ ریسکیو آپریشن کے سربراہ نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔ ریسکیو آپریشن کے سربراہ اور چیانگ رائی کے سابق گورنر ’نارونگسك اوساتاناكورن ‘نے آدھی رات کو میڈیا سےخطاب کرتے ہوئے کہا، "سب سے اہم نقطہ یہ ہے بارش نہ جانے کب دوبارہ شروع ہو جائے. لہذا ہمارے پاس محدود وقت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ خطرے کو کم کرنا چاہتے ہیں. غار کے اندر آکسیجن کی سطح میں کمی بھی 'بڑی تشویش' کی بات ہے۔

جمعہ کو ریسکیو آپریشن کے دوران تھائی لینڈ کے ایک غوطہ خور کی موت کے بعد مہم کی ٹیم کے سربراہ نے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔ریسکیو آپریشن میں تھائی لینڈ کی بحریہ، فوج، پولیس اور رضاکار دن رات بارش کے بعد غار میں بھرے پانی کونکالنے میں لگے ہوئے ہیں. غار میں پھنسے فٹ بال ٹیم کے رکن بچوں کی عمر 11 سے 16 کے درمیان ہے۔ یہ سبھی تیرنا نہیں جانتے، اس لئے انہیں غار کے تنگ، گہرے اور کیچڑ بھرے راستے میں تیرنا سيكھايا جا رہا ہے۔

ریسکیو ٹیم کے پاس غار میں پھنسے بچوں کو محفوظ نکالنے کے لئے محدود آپشنز ہیں یا تو امدادی ٹیم بچوں کو آکسیجن کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے چار ماہ تک مانسون ختم ہونے کا انتظار کرے یا پھر پہاڑ کو سینکڑوں میٹر تک کاٹ کر اس میں سوراخ بنا کر بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کرے۔خیال رہےغار میں پھنسے ہوئےبچے 23 جون کو فٹ بال میچ کھیلنے کے بعد کوچ کے ساتھ غار دیکھنے گئے تھے اور بارش کے بعد غار میں پانی بھرنے اور دروازے بند ہونے کے بعد بچے غار میں پھنس گئے تھے۔