قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

سری نگر:قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ہاتھوں دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو گرفتار کرکے دہلی منتقل کرنے کے خلاف وادی کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں ہفتہ کے روز ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے دو پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ این آئی اے نے جمعہ کے روز سری نگر کی سینٹرل جیل میں مقید دختران ملت کی سربراہ اور اُن کی دو قریبی ساتھیوں کو نئی دہلی منتقل کیا جہاں پٹیالہ ہاوس کورٹ کی خصوصی این آئی اے عدالت نے تینوں کو دس روزہ ریمانڈ پر این آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

کشمیری مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کی این آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری اور دہلی منتقلی کے خلاف 7 جولائی کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے حکومت ہندوستان کی طرف سے عملائی گئی بقول اُن کے ایسی انتقام گیر پالیسیوں کو جذبہ آزادی سے سرشار ریاستی عوام کے غیرت اور حمیت کو للکارنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ تاہم انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے دو پولیس تھانوں نوہٹہ اور مائسمہ میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔

حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی جو 8 جولائی کو منائی جارہی ہے، کے پیش نظر بیشتر مزاحمتی قائدین و کارکنوں کو پہلے ہی خانہ یا تھانہ نظربند کیا گیا ہے جہاں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ کو جمعہ کی صبح اپنے گھر میں نظربند کیا گیا، وہیں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) چیئرمین یاسین ملک کو بھی اسی روز حراست میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید کردیا گیا۔

بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھے گئے ہیں۔ دیگر متعدد علیحدگی پسند قائدین اور کارکنوں کے علاوہ درجنوں مبینہ سنگبازوں کو وادی کی مختلف پولیس تھانوں میں بند کردیا گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے برہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلے میں 8 جولائی اتوار کے روز ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ قصبہ ترال میں برہان وانی کے آبائی مقبرے پر جملہ شہدائے کشمیر کے حق میں خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلع سری نگر کے دو پولیس تھانوں بشمول نوہٹہ اور مائسمہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں اگلے احکامات تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا ’پولیس تھانہ نوہٹہ کے تحت آنے والے علاقہ میں جمعہ کو بھی پابندیاں نافذ رکھی گئی تھیں‘۔ نوہٹہ میں جمعہ کو پابندیاں کی وجہ سے 624 برس قدیم تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہیں ہوسکی تھی۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے ہفتہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوہٹہ چوک کے علاوہ گوجوارہ، راجوری کدل، بوہری کدل ، نائید کدل اور دوسری ملحقہ علاقوں میں بھی کرفیو جیسی پابندیاں جاری رکھی گئی ہیں۔ نامہ نگار نے بتایا کہ پائین شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والی کچھ سڑکوں کو بھی خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسزکی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے۔

دریں اثنا وادی کے سبھی دس اضلاع میں ہفتہ کو مزاحمتی قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ تاہم کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے انڈر گریجویٹ کورس کے امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق لئے گئے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ این آئی اے جس نے پہلے ہی قریب آدھ درجن کشمیری علیحدگی پسند قائدین کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بند کرادیا ہے، نے 26 اپریل کو آسیہ اندرابی اور اُن کی دو قریبی ساتھیوں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلی تھی۔ اس میں دختران ملت کی سربراہ اور صوفی فہمیدہ و ناہیدہ نصرین پر جموں وکشمیر کی بھارت سے علیحدگی کی مہم چلانے ، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور لوگوں کو ملک کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ ایف آئی آر مبینہ طور پر مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر درج کی گئی تھی۔ آسیہ اندرابی ، صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نصرین گذشتہ کچھ عرصے سے سری نگر کی مختلف جیلوں میں مقید تھیں جہاں سے انہیں 6 جولائی کو دہلی منتقل کیا گیا۔