دہلی

title_image


Share on Facebook

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ریڈونی علاقے میں ایک کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زبردست رنج و الم اور افسوس کا اظہار کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ معصوموں کی ہلاکت کو کوئی بھی جواز نہیں بخشا جاسکتا، انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور پتھر کا جواب کسی بھی صورت میں گولی نہیں ہوسکتی۔دونوں لیڈران نے مرحومین کے جملہ سوگوران خصوصاً والدین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔

انہوں نے ریاستی گورنر شری این این ووہرا پر زور دیا کہ گذشتہ3سال سے جاری مسلسل شہری ہلاکتوں پر بریک لگانے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں اور انسانی جانوں کا تحفظ ہر حال میں ممکن بنایا جائیں۔

ادھر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر صدر ناصر اسلم وانی نے نوائے صبح کمپلیکس میں ایک پریس کانفرنس میں شہری ہلاکتوں کی زبردست الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کشمیریوں کو ایک سازش کے تحت پشت بہ دیوار کرنے کے ساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے یہاں نوجوانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تاکہ یہاں کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ نہ کرسکیں۔

پارٹی کی سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، پیرزادہ احمد شاہ، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی(ایم ایل اے ہوم شالی بُگ) اور صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار نے معصوموں کی ہلاکت پرشدیدردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلسل شہری ہلاکتوں کا ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 3سال سے شہری ہلاکتیں معمول بن کر رہ گیا ہے جس کی براہ راست ذمہ داری سابق پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت ہے، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت لگاتا ر شہری ہلاکتوں اور انسانی جانوں کے زیاں پر روک لگانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔