قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی: ملک کے کئی حصوں میں لنچنگ (بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر قتل) کے واقعات اور جھارکھنڈ میں سماجی کارکن سوامی اگنی ویش پر حملے کا معاملہ آج لوک سبھا میں اٹھا جس کی حکومت نے بھی سخت مذمت کی۔ لیکن حکومت کے جواب سےغیر مطمئن اپوزیشن نے ایوان سےواک آؤٹ کیا۔

ایوان میں وقفہ صفرکےدوران کانگریس کےکے سی وینو گوپال نے یہ معاملہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ ملک میں ایک خاص نظریہ کے لوگ الگ نظریہ رکھنے والوں پرپر تشدد حملے کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر حال ہی میں وزیر خارجہ سشما سوراج کے خلاف اسی طرح سے نازیبا زکلمات کااستعمال کیا گیا اور دو دن پہلے سوامی اگنی ویش پرپر تشدد حملہ ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے رویے کی وجہ سے یہ صورت حال بدتر ہو رہی ہے۔

اس پر ایوان میں موجود وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اور سوشل میڈیا پر کنٹرول اور ریاستی حکومتوں کے فعال کردار کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں لنچنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایسے واقعات صرف گزشتہ چند سالوں میں ہی ہوئے ہیں۔ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ ان میں کئی لوگ مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کے لئے یہ تشویش کاموضوع ہے۔ حکومت کی طرف سے ان کی مذمت اور تنقید کی گئی ہے۔ اس طرح کے طور طریقے ناقابل برداشت ہیں۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس قسم کے واقعات افواہوں، شک اور غیر مصدقہ نیوز کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ قانون اورنظم ونسق کوبرقرار رکھنا اور اس طرح کے معاملات میں مؤثر کارروائی کرنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔وہیں مرکزی حکومت اس سلسلےمیں خاموش نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز نے ریاستی حکومتوں کو 2015 میں اور ابھی اسی ماہ دو سرکلرجاری کئے ہیں۔ چونکہ ایسے واقعات سوشل میڈیا میں فیك نیوزکی وجہ سےہوتے ہیں، لہذا سوشل میڈیا سروس فراہم کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنےسسٹم میں اس پر نگرانی کا بندوبست کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ لنچنگ کے واقعات بہت ہی تکلیف دہ ہےاور تقریبا ہر بڑے واقعہ پر انہوں نے خود متعلقہ ریاستوں کے وزرائے اعلی سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

اپوزیشن کی جانب سے کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے، مسٹر وینو گوپال، مسٹر جیوتی رادتیہ سندھیا نے شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت جینت سنہا کی طرف سے پیٹ پیٹ کر قتل کے ملزم کو مالا پہنا کرخوش آمدید کئے جانے کا مسئلہ اٹھا کر وزیر داخلہ سے جواب مانگا، لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اس کی اجازت نہیں دی جس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کےارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔