قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی: سی پی ایم نے آج کہا ہے کہ اس کی روایتی حریف ترنمول کانگریس لوک سبھا میں کل عدم اعتماد کی تحریک پر بحث میں آیا حصہ لیتی ہے اور بورڈ بھی ڈالتی ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ 2008 میں ممتا بنرجی نے ایک انتہائی اہم موضوع پر اراکین کی تعداد کی آزمائش کے دوران خود کو ووٹ ڈالنے سے الگ رکھا تھا۔

سی پی ایم کے ترجمان اورمارکسی لیڈر محمدسلیم نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ 2008 میں جب من موہن سنگھ کی حکومت نے اعتمادکی تحریک پیش کی تھی تو ممتا بنرجی نے بحث اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ منموہن کی تحریک پر 22 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

مسٹرسلیم نے یہ باتیں ترنمول کانگریس کے پارلیمانی رکن دنیش ترویدی کی اس درخواست کے ایک روز بعد کہیں جس میں مسٹر ترویدی نے لوک سبھا میں یہ درخواست پیش کی کہ بحث اور ووٹنگ کی تاریخ 23 جولائی تک موخر کی جائے۔

مسٹر دویدی نے کہا کہ سابقہ موقعوں پر ووٹنگ شہید دیوس کے ایک روز بعد ہوئی تھی اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ 21جولائی کو شہید دیوس مناتے ہیں جب 14 نوجوان پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے لہذا بحث اور ووٹنگ 20 کے بجائے 23 جولائی کو کرائی جائے۔

انہوں نے کہا ک بصورت دیگر ترنمول اراکین ایوان میں بحث میں حصہ نہیں لے پائیں گے اور ایسا جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 1993 میں مغربی بنگال میں یوتھ کانگریس کی ایک ریلی کے دوران پولیس فائرنگ میں جو ہلاکتیں ہوئی تھیں ان کی یاد میں ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس ہر سال 21 جولائی کو یوم شہدا مناتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مارکسی رہنما نے کہا کہ جمعہ کو ووٹنگ کاکیا نتیجہ نکلے گا اس سے قطع نظر بحث کے تناظر میں عدم اعتماد کی تحریک کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ سوال صرف اراکین کی تعداد کا نہیں ، کسان سمیت عوام کی پریشانیوں اور ذہنی اذیت کے امور کو سامنے لانا بائیں پارٹیوں کے نزدیک زیادہ اہم ہے۔