قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

نئی دہلی: اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آج کہاکہ ملک میں بدعنوانی مٹانے کے دعوے کے ساتھ برسراقتدار آئی حکومت نے چار برس میں لوک پال کی تقرری تک نہیں کی ہے اور اس دوران بدعنوانی پر لگام لگانے کے بجائے اسے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر آنند شرما نے بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق(ترمیمی) بل 2013پر بحث کی شروعات کرتے ہوئے کہاکہ بدعنوانی کے خلاف تحریک پر سوار ہوکر اقتدار میں آئی مودی حکومت کی حکمرانی میں بدعنوانی ختم ہونا تو دور کی بات ہے اس کے برعکس اسے تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ حکومت غیرممالک سے بلیک منی تو واپس نہیں لاسکی بلکہ گزشتہ دو برسوں میں غیرممالک میں جمع ہندستانیوں کے پیسے میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اتنا اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ صرف قانون میں ترمیم سے بدعنوانی پر لگام نہیں لگے گی کیونکہ حکومت کا ارادہ بدعنوانی ختم کرنے کا نہیں ہے اور اس وجہ سے ملک اور سماج حکومت کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہے۔

بل کے التزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بدعنوان افسرا ن کے خلاف کارروائی کے لئے مرکز میں لوک پال اور ریاستوں میں لوک آیکت سے اجازت لینی ہوگی۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ اب تک لوک پال اور لوک آیکتوں کی تقرری ہی نہیں کی گئی ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اگر حکومت بدعنوانی پر غدغن لگانے کیلئے سنجیدہ ہے تو وہ یہ حق اپنے پاس کیوں نہیں رکھتی۔ یہ حق حکومت سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔

مسٹر شرما نے کہاکہ جب اس بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجا گیا تھا تو یہ اتفاق رائے بھی ہوا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ’وہسل بلوور بل‘ بل لایا جائے گا لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت اس بل پر ہچکچا کیوں رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خدمات سے متعلق بل پر بھی حکومت کوئی بات نہیں کررہی ۔

حکومت پر مختلف ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قوانین کا دو طرح سے استعمال کیا جارہاہے۔ اپنوں اور اتحادیوں کے لئے ایک قانون کام کرتا ہے جبکہ اپوزیشن اور مخالفین کے لئے دوسراقانون کام کرتا ہے۔ ایک ہی جرم کیلئے مختتلف ایجنسیوں کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ یہ ایجنسیاں یکساں جرم کے لئے کئی مساوی مقدمات درج کرکے لوگوں کو پریشان کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دراصل دقت یہ ہے کہ ملک میں قوانین کا صحیح طریقہ سے نفاذ نہیں کیا جاتا ۔ اگر انہیں صحیح طریقہ سے نافذ کیا جائے تو ہر قانون کی جگہ نئے قانون کی ضرورت نہیں ہے۔

سماج وادی پارٹی کے روی پرکاش ورما نے بھی حکومت پر بدعنوانی کے محاذ پر ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ چار برس کے بعد بھی اس معاملہ میں حکومت کسی مقام پر نہیں پہنچی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لوگوں کو خود کا روزگار مہیا کرانے والی مدرا یوجنا بھی بدعنوانی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ بدعنوانی کو وسیع نظام کا حصہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سے نپٹنے کے لئے ہر سطح پر کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملہ میں سب سے بڑی خامی یہ رہی کہ ملک میں انتظامی اور عدلیہ اصلاحات سے پہلے اقتصادی اصلاحات کردی گئیں۔ وہسل بلوور بل لانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے ا ب تک 73وہسل بلوور مارے جاچکے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے شویت ملک نے کہاکہ حکومت اس بل کو کافی پہلے منظور کرا دیتی لیکن اپوزیشن کا تعاون نہیں ملنے سے ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب ہزاروں کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے اور کالے دھن پر لگام لگی ہے۔ حکومت نے بے نامی املاک قانون بناکر بدعنوانی سے لڑنے کا اپنا عز م ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مختلف انتخابات میں ملنے والی کامیابیاں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر مہر لگا رہی ہیں۔

ترنمول کانگریس کے سکھیندر شیکھر رائے نے کہاکہ بل میں رشوت لینے اور دینے والوں کے لئے سزا کا الگ الگ التزام کیا گیا ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ رشوت لینے اور دینے والوں کے لئے یکساں سزا کا التزام ہونا چاہئے۔ اس میں بدعنوانی کی بھی ٹھیک طرح سے تشریح نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے حکام اس کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

بیجو جنتادل کے پرسن آچاریہ کا کہنا تھا کہ بل کے ذریعہ بدعنوانی سے متعلق قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن انہوں نے سزا کا التزام بڑھائے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ رشوت لینے اور دینے والوں کے لئے یکساں سزا ہونی چاہئے۔

جنتادل (یو) کے رام چندر پرساد سنگھ نے کہاکہ بل میں ایسے التزامات کئے گئے ہیں جن سے پولیس حکام غیرضروری جانچ نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بہار میں بدعنوانی پر روک کے لئے کئی قوانین بنائے گئے ہیں اور بے شمار جائیداد جمع کرنے والوں کی املاک بھی ضبط کی گئی ہے۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رکن کے کے راگیش نے ملک میں موجود بدعنوانی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اسے روکنے کے قانون ہیں لیکن یہ مسئلہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس سے عدلیہ بھی اچھوتی نہیں ہے۔ راشٹریہ جنتادل کے منوج جھا نے بدعنوانی کے مسئلہ کو باعث تشویش قرار دیا۔

ہندستانی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ نے کہاکہ بدعنوانی نے سماج کو کمزور کردیا ہے۔ لوگ بدعنوانی سے پریشان ہیں اور صنعتی گھرانے بھی بدعنوانی میں شامل ہیں۔