دہلی

title_image


Share on Facebook

پٹھانکوٹ ، عدالت عظمیٰ کی طرف سے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر ٹرائل کی واضح ہدایات کے باوجود کٹھوعہ عصمت دری وقتل معاملہ کی ٹرائل کچھوے کی چال سے چل رہی ہے۔وکلاء صفائی کی طرف سے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے کہ جتنا ممکن ہوسکے اس ٹرائل میں تاخیر کی جائے۔ طوالت کو یقینی بنانے کے لئے ہر دن کوئی نئی عرضی پٹھانکوٹ ضلع عدالت کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔9جون2018کو باقاعدہ طور ٹرائل کا عمل شروع ہواتھا ۔1ماہ 10دن ٹرائل گذرجانے کے بعد کل 221میں سے 11گواہان کے بیانات قلمبند کئے گئے اور ان کی جرح ہوئی ہے۔ اب تک ہوئے گواہان میں مستغیث مقدمہ(بچی کا والد) بھی شامل ہے۔ ایک کیمسٹ جس سے ملزم نے بچی کو مبینہ طور بہوش کرنے کے لئے دوا لی تھی، نے صاف انکار کر دیاتھا۔ کرائم برانچ کی طرف سے جوبھی گواہان پیش کئے جاتے ہیں، ان کی پیشگی اطلاع نہیں دی جارہی کیونکہ انہیں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے لیکن صفائی وکلاء پیشگی اطلاع چاہتے ہیں۔ اس کے لئے پٹھانکوٹ عدالت میں صفائی وکلاء نے گذشتہ دنوں عرضی بھی دائر کی جس پرسرکاری وکیلوں نے شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بدھ کے روز پٹھانکوٹ سیشن کورٹ کوبتایا کہ اس سے گواہوں کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

ملزمان کے وکیلوں نے 16جولائی کو پٹھانکوٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے مانگ کی تھی کہ انہیں گواہوں کے بارے میں پیشگی مطلع کیاجائے تاکہ وہ جرح کے لئے تیار ی کرسکیں۔فاضل جج نے معاملہ کی بحث کے لئے 24جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے ۔19جولائی بروز جمعرات 11گواہ نا ئب تحصیلدار جموں کی جرح ہوئی جوکہ فرد ضبطگی، اقبال جرم اور برآمدگی کا گواہ بنایاگیاہے۔ذرائع نے یو این آئی کو بتایاکہ وکلاء صفائی نے وکلاء صفائی نے نائب تحصیلدار جموں کوفرد ضبطگی، برآمدگی اور اقبال جرم کا گواہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ’جموں اینڈ کشمیرسیپرایشن آف جوڈیشل اینڈ ایگزیکٹیو فنکشن ‘ایکٹ نمبر11/1966کے مطابق ایگزیکٹیو اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات اور دائرہ(Jurisduction)واضح کی گئی ہے ، صفائی وکلاء نے یہ سوال اُٹھایاکہ واقع ضلع کٹھوعہ کی تحصیل ہیرانگر کے گاؤں رسانہ میں ہوا، تو نائب تحصیلدار جموں کو وہاں آنے کا اختیار کیسے ملا جبکہ ایسا اگر ضروری ہوتو اس کے لئے صوبائی کمشنر یا بھی کمشنر سیکریٹری ریونیو آرڈر نکالنے کے مجاز ہیں، جوکہ نہیں نکالاگیا۔ذرائع کے مطابق 20جولائی کو بھی 11ویں گواہ کی جرح جاری رہے گی۔یاد رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری 2018کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔

کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔مقدمے کے ملزمان میں واقعہ کے سرغنہ اور مندر کے نگران سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر ورما، سانجی رام کا بھتیجا وشال، وشال کا دوست پرویش کمار منو، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا ہیں۔ کیس کی ایک سماعت 16 اپریل کو سیشن جج کٹھوعہ سنجیو گپتا کی عدالت میں ہوئی تھی ۔ نابالغ ملزم کو چھوڑ کر جن 7 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، نے جج موصوف کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ بتاتے ہوئے نارکو ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم متاثرہ کی فیملی کی جانب سے کیس کو چندی گڈھ منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی پہلی سماعت میں کیس کی کٹھوعہ عدالت میں سماعت پر روک لگائی تھی۔عدالت عظمیٰ نے 7مئی2018کو آٹھ سالہ بچی کے اغواء، اجتماعی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل معاملہ جانچ سی بی آئی سے کرانے کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھانکوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔9جولائی 2018کو عدالت عظمیٰ نے ملزمین کو کٹھوعہ جیل سے پنجاب ریاست کی گرداس پور جیل منتقل کرنے کا حکم صادر کیاتھا۔ چیف جسٹس دیپک مشتر کی قیادت والی بنچ نے اسی روزی پٹھانکوٹ ضلع سیشن جج تیجندر سنگھ اور خصوصی سرکاری وکلاء کو معقول سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی حکم صادر کیاتھا۔