دہلی

title_image


Share on Facebook

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے منگل کے روز حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو ان کی رہائش گاہ پر نظربند کردیا۔ حریت (ع) کے ایک ترجمان نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ’میرواعظ جنہیں پروگرام کے مطابق عوامی مجلس عمل کے ایک اہم اجلاس میں پارٹی ہیڈ کوارٹر میرواعظ منزل راجوری کدل میں شرکت کرنی تھی۔



اس کے بعد میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے زیر اہتما م ایک سمینار میں شریک ہونا تھا کو حکمرانوں نے علی الصبح اپنے گھر میں نظر بند کرکے نہ صرف موصوف کی سرگرمیوں کو مسدود کردیا بلکہ عوامی مجلس عمل کے مرکزی دفترمیرواعظ منزل تک پہنچنے کے تمام راستے سیل کرکے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنوں کو دفتر میں حاضری سے طاقت کے بل پر روک دیا‘۔



ترجمان نے بقول ان کے میرواعظ کو ایک بار پھر طاقت کے بل پر اپنی رہائش گاہ میرواعظ منزل نگین میں نظر بند کرکے ان کی جملہ پر امن دینی و سیاسی سرگرمیوں پرقدغن عائد کئے جانے کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی آمرانہ طرز عمل سے عبارت پالیسی قرار دیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس اورعوامی مجلس عمل کے بقول ان کے پرامن سرگرمیوں پر پابندی حکمرانوں کے جمہوری دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے اور اگرچہ حریت چیئرمین کے خلاف ریاستی حکمرانوں کی معاندانہ روش کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ تاہم اس طرح کے اقدامات سے حکومت اگر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ یہاں کی مزاحمتی قیادت کو طاقت کے بل پر حق و انصاف سےعبارت موقف اور اپنی منصفانہ جدوجہد سے دستبردار کرسکتی ہے تو یہ اسکی شدید غلط فہمی ہے۔حریت ترجمان نے حریت لیڈر مختار احمد وازہ کو مزاحمتی قیادت کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں شرکت سے روکنے اور انہیں اپنے رفقاء سمیت گرفتار کرکے شیر باغ تھانہ اننت ناگ میں مقید کردینے پرشدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔