قومی خبریں

title_image


Share on Facebook

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے نیشنل رجسٹرارآف سٹیزن (این آرسی) کے موضوع پرمرکزی حکومت کے رویے کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کے اہل خانہ کا نام بھی شہریت کی لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ ایسے بہت سے شہری ہیں، جن کا نام شہریت رجسٹرارمیں نہیں ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ کیا صرف جولوگ بی جے پی حامی ہیں، انہیں ہی ملک میں رہنے کا حق ہے؟ دہلی واقع کانسٹی ٹیوشن کلب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگالی ہی نہیں اقلیتوں، ہندووں اوربہاریوں کو بھی این آرسی سے باہررکھا گیا ہے۔ 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں جنہوں نے کل برسراقتدارپارٹی کے لئے ووٹ کیا تھا، آج انہیں اپنے ہی ملک میں رفیوجی (مہاجر) بنا دیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ لوگ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ جاری رہا تو ملک میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ ملک میں سول وارشروع ہوجائے گا۔ ممتا نے کہا کہ "ہندوستان ہمارا ہوم لینڈ ہے"۔ ہم اس سے پیارکرتے ہیں، ہرشخص ہندوستان کے کسی بھی ریاست میں رہ سکتا ہے، لیکن گزشتہ دنوں سے خطرہ پنپ رہا ہے، ہم اسے ہونے نہیں دیں گے، ہم وہاں ہیں"۔

ممتا نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی اچھی وجہ کے لئے لڑنا غلط ہے، تو ہم یہ غلطی کریں گے۔ انہوں نے نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ہی پارٹی کے ارکان کا حق ہے کہ وہ ملک سے پیار کریں؟ ممتا نے میڈیا کی حالت پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو دبایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوکچھ جھارکھنڈ میں ہوا، وہ ہم پورے ملک میں نہیں ہونے دیں گے۔ عدلیہ پربھی دباوہے، میں جہاں کہیں بھی جارہی ہوں، ان کا سفرمنسوخ کرا دیا جارہا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ نہرو- لیاقت معاہدہ اوراندرا گاندھی کے مطابق وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ بہار، تمل ناڈو اورراجستھان کے کئی لوگوں کے نام وہاں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگربنگالی کہیں کہ وہ بنگال میں نہیں رہ سکتے، اگرجنوبی ہندوستانی کہیں کہ وہ شمالی ہندوستانی کو نہیں رہنے دے سکتے، اس ملک کے حالات کیسے ہوں گے؟ اگر ہم ساتھ رہ رہے ہیں تو یہ ملک ہمارے لئے خاندان کی طرح ہے۔

غورطلب ہے کہ آسام کے قومی شہری رجسٹرار(این آرسی) کا دوسرا اورآخری ڈرافٹ جاری ہوچکا ہے، اس میں 3.29 کروڑدرخواست دہندگان میں سے 2.90 کروڑدرخواست درست پائے گئے ہیں۔ 40 لاکھ شہریوں کانام ڈرافٹ سےغائب ہے۔ واضح رہے کہ آسام میں این آرسی کا پہلا ڈرافٹ گزشتہ سال دسمبرکےآخرمیں جاری ہوا تھا۔ پہلے ڈرافٹ میں 3.29 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 1.9 کروڑ لوگوں کے نام شامل کئے گئے تھے۔